ہم اہل ِ قلم.. ابھی زندہ ہیں ابھی تختے الٹنے باقی ہیں

0

 شگفتہ سبحانی 


او اہل قلم.. اۓ ماہ سُخن

او رشک قمر.. اۓ رشک ِ سُخن

لکھئے کہ ابھی بھی سینے میں اس دل کی یہ دھَک دھَک باقی ہے 

لکھئے کہ ابھی بھی پہلو میں زنجیر کی جَھن جھَن ملتی ہے


لکھئے کہ ابھی بھی کَرب سے بوجھل روح کے گہرے زخموں میں

ادراک ِ اَلم، احساس ِ اَلم، اظہار کی خوشبو ملتی ہے 

لکھئے کہ ابھی بھی غیروں سے 

اپنوں کے ستم کچھ زیادہ ہیں

لکھئے کہ پرائی دھرتی پر ہم وطنوں کے سَر ملتے ہیں


اٹھیے کہ بگولے اٹھتے ہیں، ابھی ظلم کی آندھی چلتی ہے 

لکھئے کہ ابھی بھی غرباء کی

آہوں سے یہ دھرتی ہلتی ہے 


لہراتا ہے خونی پرچم اب

خونریز اندھیرے ملتے ہیں

ابھی سَحر کا جب تک نام نا ہو

اس لمحہ تلک آرام نا ہو 


ابھی دور کہیں چیخوں سے دہلتا ہے ملبوں کا شہر کوئی 

ابھی سناّٹوں میں پاس کہیں دھیرے سے کوئی بَم گرتا ہے 


اۓ اہل قلم... ابھی سونا مت ابھی دل کو کہیں آرام نہیں

اۓ اہل قلم تری جراءت کی

 دنیا کو یہاں پر آس کئی


اٹھو اۓ قلم کارو کہ یہاں پہ گرد کی صورت چھا جاؤ

ہر سمت سے سے اک آواز بنو

آواز کی صورت چھا جاؤ


سینچو یہاں اپنے خوں سے قلم،

صفحہ سے مٹادو ظالم کو

اک امن کی آندھی کی صورت

ہر ظلم کا اب انجام لکھو


جواب:

ہم پلٹیں گے اس دور ستم کو لکھیں گے پھر چین و سکوں

ہم اہل قلم ابھی زندہ ہیں

ابھی تختے الٹنے باقی ہیں

پھولوں کا مہکنا باقی ہے

چڑیوں کا چہکنا باقی ہے


اۓ فرعونو، نمرود سنو! 

ہم سَحر کو کھینچ کے لائیں گے

ہم اہل قلم.. نقّاد ادب

ابھی تاج پہن کر آئیں گے







Tags

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے

کمینٹ باکس میں کوئی بیحدہ الفاظ نہ لکھے بڑی مہربانی ہونگی

ایک تبصرہ شائع کریں (0)