جلگاؤں میں اردو کا تاریخی ، دستاویزی کام ہورہا ہے شمیم طارق

0


 جلگاؤں میں اردو کا تاریخی ، دستاویزی کام ہورہا ہے 

  شمیم طارق 

کتابوں سے ادب زندہ رہتا ہے اردو سے محبت ہونا چاہیۓ شاہد لطیف 

 بزم اردو ادب کی جانب سے اردو کے بے لوث سپاہی کی رسم رونمائی و چار ادباء کو سالانہ اعزازات تفویض

جلگاؤں( سعید پٹیل)ضلع جلگاؤں کے ادباء ، شعراء و صحافیوں کی حوصلہ افزائی ، پذرائی اور ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں گذشتہ سال سے جاری مختلف نامور بذرگوں کے نام سے منسوب ادب کی شعبہ جات کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں سن ٢٠٢٢ کے لیۓ عاجز بیاولی کو شاعری کےلیۓ (ذاکر عثمانی ایوارڈ) ، محسین جلگانوی کو شاعری کےلیۓ (حضرت سلطان نقشبندی ایوارڈ) رشید قاسمی کو افسانہ نویسی کےلیۓ 
(حضرت ناظر انصاری ایوارڈ) اور سعید پٹیل کو صحافت کےلیۓ ( اکبر رحمانی ایوارڈ) ان حضرات کو مومنٹو ، سپاس نامہ اور گیارہ ہزار روپیۓ نقد کیسہ زر پر مشتمل اعزازات تفویض کیۓ گیۓ۔ قبل ازیں اقراء ایچ جے تھم کالج مہرون جلگاؤں میں آج ٢٣ ستمبر کو صبح ١١ بجے اس ادبی پر رونق تقریب کا آغاز قاضی مزمل ندوی کی تلاوت قرآن پاک سے عمل میں آیا۔تحریک صدارت و تائید صدارت کے بعد بزم اردو ادب و الفیض فاؤنڈیشن کی جانب سے مہمانان کا گلہاۓ عقیدت دے کر استقبال کیا گیا۔ تقریب کی غرض و غایت الفیض فاؤنڈیشن کے سرپرست و اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالکریم سالار نے پیش کرتے ہوۓ مذکورہ کتاب کے حیات ادباء پر مشتمل دوسرے حصہ کی اشاعت کرنے کا اعلان کیا تاکہ ہماری ادبی وراثت کی بقاء ہو ، کیونکہ جلگاؤں ضلع کی اردو ادبی تاریخ بہت سنہری ہے۔۔ 
مشرقی خاندیش ضلع جلگاؤں کے مرحوم فنکار۔حیات و خدمات پر مرتب کتاب ”اردو کے بے لوث سپاہی“ کی رسم رونمائی مدیر اعلی روزنامہ انقلاب ممبئ شاہد لطیف کے دست مبارک سے عمل میں آئی۔صدارت اردو ادیب و محقیق شمیم طارق نے کی۔ پروفیسر عبدالعزیز دہلی ، بیباک صحافی و عالم دین مفتی محمد ہارون ندوی ، اقراء کے چیرمین ڈاکٹر اقبال شاہ ، اعجاز عبدالغفار ملک ، عبدالعزیز سالار ، انصار صاحب ، مشتاق سالار بطور مہمانان خصوصی جلوہ افروز تھے۔اس موقع پر مذکورہ کتاب کے مرتب و ترتیب میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے والے عبدالعزیز انصاری (دھولیہ) ، قیوم اثر ، مشتاق کریمی ، ارتکاز صابر زاہد ، افتخار احمد و اکبر رحمانی کے فرزند سہیل رحمانی ان حضرات کا خصوصی استقبال کیاگیا۔ معززین شہریان میں عبدالوہاب ملک ، محمد اشفاق باغبان ، انور خان سقلگر وغیرہ نے خصوصی شرکت فرمائی۔ محسین جلگانوی کی حیدرآباد میں مقیم ہے اور وہ ایوارڈ لینے نہیں آسکے ، ان کے ایوارڈ کو ان کی نمائندگی کرتے ہوۓ سنیئر افسانہ نگار معین الدین عثمانی نے قبول کیا۔اسی طرح عاجز بیاولی طبعیت ناساز ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے اور ان کے اعزاز کو ان کے فرزند سعید بیاولی نے قبول کیا۔ صاحب اعزاز کے اظہار تشکر کے بعد پروفیسر عبدالعزیز دہلی نے اردو کے بے لوث سپاہی کی طرح ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی ہمارے اسلاف کی ادبی تاریخ اور بذرگوں کے کارناموں کو مرتب کیۓ جانے کا کام کیا جانا چاہیۓ۔ شاہد لطیف نے مذکورہ کتاب کی اشاعت اور اور ادباء کو اعزازات تفیوض کرنے پر کہاکہ جلگاؤں والے ایسا کام کرتے ہیں کہ وہ تحریک بن جاتی ہیں۔یہ تاریخی و دستاویزی کام ہے۔موصوف نے کہاکہ کتابوں سے ادب زندہ رہتا ہے۔اردو سے اردو والوں کی کم ہوتی محبت پر موصوف نے افسوس جتایا۔جبکہ دیگر قومیں کتابوں سے دوستی بڑھا رہی ہیں۔ ہمیں اردو زبان میں ہی تعلیم حاصل کرنا چاہیۓ۔صدارتی خطبہ میں شاعر ، ادیب ، محقیق و نقاد شمیم طارق نے اردو ادب کی تحقیق و ناقد کے طور پر سیر حاصل رہنمائی کی۔موصوف نے ادب کی قدردانی کرنے اور جامعہ ادب کی تخلیق پر زور دیا۔اعزازات کی تفویض و ایک اہم کتاب کی اشاعت پرادارے کو مبارکباد پیش کی۔ بزم اردو ادب ، الفیض فاؤنڈیش کے ذمہ داران نے کارکنان نے پروگرام کو کامیاب بنانے کےلیۓ محنت کی ۔ افتخار احمد نے بخوبی نظامت سے پر لطف بنایا۔ الفیض اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس آصف پٹھان کی رسم شکریہ پر بر وقار ادبی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے

کمینٹ باکس میں کوئی بیحدہ الفاظ نہ لکھے بڑی مہربانی ہونگی

ایک تبصرہ شائع کریں (0)